اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان بہرام قاسمی نے کہا ہے کہ ایران میں سرمایہ کاری اور کام کاج کے مواقع سے متعلق پیدا ہونے والی فضا سے ایران کے اندرونی مسائل اور اغیار سے وابستہ جاسوسوں کے خلاف ایران کی آزاد عدلیہ کے فیصلوں کو جوڑنا ایک ایسی بے جا اور نادرست کوشش ہے جس سے ایران کے ساتھ عالمی تعاون کے عمل پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔
بہرام قاسمی نے اسی طرح ایران کے خلاف امریکہ کی دھمکیوں کو واشنگٹن کی مداخلت پسندی کا ایک اور نمونہ قرار دیا اور تاکید کے ساتھ کہا کہ ایران کے خلاف دھمکیوں سے متعلق غیر سنجیدہ اور نادرست اقدام سے، نہ صرف یہ کہ کوئی اثر نہیں پڑے گا بلکہ امریکہ کے بارے میں ایرانی قوم کے عدم اعتماد میں مزید اضافہ بھی ہو گا۔
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان بہرام قاسمی نے تاکید کے ساتھ کہا کہ ایران کی حکومت اور قوم، امریکی حکام کے مداخلت پسندانہ بیان کو کوئی اہمیت نہیں دیتی اور نہ ہی ان کے کسی بھی طرح کے بیان سے امریکی حکام کی غیرمنطقی پالیسیوں کے مقابلے میں ایرانی قوم کا اتحاد متاثر ہو گا۔
قابل ذکر ہے کہ تہران کے پراسیکیوٹر نے منگل کے روز اعلان کیا ہے کہ جاسوسی اور امریکہ کے ساتھ تعاون کے الزام میں باقر نمازی، سیامک نمازی، فرہاد عبد صالح، کامران قادری، نزار زکا، اور علی رضا امیدوار کو دس دس برس قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ اس خبر کے بعد امریکی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں باقر نمازی اور سیامک نمازی کو، جو امریکی شہریت رکھتے ہیں، دس دس برس قید کی سزا سنائے جانے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲